نئی دہلی، 10/ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) انڈیا کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے مطالعے میں کوروناوائرس کے علاج میں پلازما تھریپی پر سوال اٹھائے کے بعد دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے اس کا دفاع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تھریپی کام کرتی ہے، انہیں معلوم ہے کیونکہ وہ خود اس سے صحت یاب ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ بدھ کو ایک تحقیق میں آئی سی ایم آر نے کہا ہے کہ ایک کورونا مریضہ کو پلازما تھریپی دینے سے موت کا خطرہ کم نہیں ہوتا ہے۔ اس کے بعد دہلی حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ دہلی حکومت سنگین معاملات میں اس طریقے کو استعمال کرتی رہے گی۔
ستیندر جین نے کہا کہ دہلی میں ایک ہزار سے زیادہ کورونا مریضوں کو پلازما تھریپی دی گئی ہے اور زیادہ تر لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے، ان کی زندگیاں بچ گئی ہیں۔ میں جانتا ہوں میں بھی اس سے صحت یاب ہو چکا ہوں۔ واضح رہے کہ جون میں جین کو کورونا وائرس کا انفیکشن ہوا تھا اوراسے اسپتال میں علاج کرانا پڑا تھا۔ ان کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے انہیں پلازما تھریپی دی گئی، جس کے بعد وہ صحت یاب ہوکر گھر آگئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ آئی سی یو میں تین مراحل ہیں۔ ہم پہلے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ تیسرے مرحلے میں جانے کے بعد پلازما تھریپی دینے کا اتنا فائدہ نہیں ہے، لیکن پہلے اور دوسرے مرحلے میں ایک فائدہ ہے۔ آئی سی ایم آر نے یہ نہیں کہا کہ پلازما تھریپی دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا، وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اگر وینٹی لیٹر پر جانے والے مریض کوشاید فائدہ نہیں ہوگا، اس سے پہلے فائدہ ہے۔